رائیونڈ میں منعقدہ سالانہ تبلیغی اجتماع کے دوسرے مرحلے کاآغاز ' امیر جماعت
رائے ونڈ حاجی عبدالوہاب نے ہدایات پر مبنی بیان دیا' مولانا محمد ابراہیم نے
نماز جمعہ پڑھائی' مسلمان نبی پاک کے بتائے دعوت و تبلیغ کے طریقے پر عمل کئے
بغیر ذلیل و رسوا ہوتے رہیںگے' طارق جمیل

 رائے ونڈ :رائیونڈ میں منعقدہ سالانہ تبلیغی اجتماع کے دوسرے مرحلے میںپہلے
روز نماز جمعہ سے قبل امیر جماعت رائے ونڈ حاجی عبدالوہاب نے ہدایات پر مبنی
بیان کیا ،نماز جمعہ مولا نا محمد ابراہیم نے پڑھائی جس کے بعد تبلیغی جماعت کے
ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل نے تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن کے بارے
تفصیلی خطاب کیا ،انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان عالم اسلام دعوت و تبلیغ کے کام
کو اسی طریقے سے شروع نہیں کریں گے جو حضور اکرم نے بتایا ہے وہ اسی طرح ذلیل و
رسوا ہوتے رہیں گے ،کفار ان پر غالب آجائیں گے ،دین سے دور ہونے والے مسلمانوں
کے ضمیر کی آواز انہیں سنائی نہیں دے گی ،بزدلی چھا جائے گی ہر غیر سے ڈریں گے
اور انہیں ہی سب کچھ مانیں گے ،مسلمانوں کی حالت بداعمالیوں کا نتیجہ ہے ،بم
دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے اسلام کے خیر خواہ نہیں،یہ کفر کا ہتھیار
بننے والے نامکمل مسلمان ہیں جن کی برین واشنگ کی گئی ہے ،لیکن ان پر غلبہ پانے
کیلئے صحیح مسلمان بننا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے
سے زیادہ اہم کام مسلمانوں کو مسلمان بنانا ، نام کے مسلمانوں کو کام کے
مسلمان، اور قومی مسلمانوں کو دینی مسلمان بنانا ہے۔ حق ہے کہ آج مسلمانوں کو
حالت دیکھ کر قرآن پاک کی یہ ندا(اے مسلمانوں ! مسلمان بنو!!) کو پورے زورو شور
سے بلند کیا جائے۔ اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کا انتظام ہر زمانے میں
جاری رکھا ہے اور اپنی حکمت اور اپنے علم کے ما تحت کبھی قوم در قوم کبھی قبیلہ
در قبیلہ اس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہدایت کی محنت کرنے والوں کو انبیا اور رُسل
کے نام سے موسوم فرمایا۔ اور جس قوم کیلئے جن اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے مناسب
سمجھا وہی اصول محنت کرنے والوں کو بذریعہ وحی یا الہام عطا فرماتے رہے۔ یہ
سلسلہ اسی طرح حضور اکرم ا تک جاری رہا۔ اور آپ کی بعثت پر سابقہ ترتیب کو ختم
فرما کر پورے انسانوں اور قیامت تک کیلئے آقائے نامدار سرور کائنات حضرت
محمدصلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کا ہادی اور امام قرار دے دیا گیا۔ اس رہبر
کامل کوحق تعالیٰ شانہ کی جانب سے کارِ نبوت کے تین فرائض عطا کئے گئے۔ اوّل
تلاوت احکام، دوم تعلیم کتاب و حکمت ، سوم تزکیہ، رسول اکرم لوگوں کو پیغام
الٰہی پڑھ کر سناتے، حکمت الٰہی کی باتیں سکھاتے، پھر اپنی صحبت فیض اثر سے پاک
صاف کرتے، نفوس کا تزکیہ فرماتے، قلوب کے امراض کا علاج کرتے، برائیوں کا زنگ
اور میل دور کر کے اعلیٰ اخلاق انسانی کو سنوارتے۔ آپ دوران تبلیغ تالیفِ قلب
کا بڑا خیال رکھتے۔ لطف و محبت ، عفوودرگزر اور ہمدردی سے آپ انے بہت سے لوگوں
کو حلقہ بگوش اسلام بنایا۔ حضور اکے طریقہ تبلیغ میں صبرواستقامت کا عنصر بڑا
نمایاں تھا۔ دائمی حق و صداقت کی مخالفت اور سختی جس قدر بڑھتی اسی قدر تبلیغ
کی شدت زیادہ ہو جاتی۔ باطل کی قوتیں حق کو دبانے کیلئے چاروں طرف سے پورش کر
کے آجاتیں تو دائمی انقلاب ایک مضبو چٹان کی طرح جم کر کھڑے ہو جاتے اس ہادی
برحق نے خفیہ طور پر بھی پیغام حق دوسروں تک پہنچایا اور پھر اعلانیہ تبلیغ کے
مراحل بھی طے کئے غیر ممالک میں تبلیغ کا فریضہ خطوط لکھوا کر پورا کیا غرضیکہ
ظاہرو باطنی فرائض یکساں اہمیت سے ادا ہوتے رہے۔ چنانچہ صحابہ اکرام ؓ اور ان
کے تابعین اور اولیاءاکرام تک یہ فرائض اسی طرح انجام پاتے رہے۔ اور پھر وہ دور
شروع ہوا جس مین مسندِ ظاہر کے درس گو باطن کے کورے اور باطن کے روشن دل ظاہر
سے عاری ہونے لگے۔ اور عہد بہ عہد ظاہرو باطن کی خلیج بڑھتی ہی چلی گئی۔ علوم
ظاہرہ کیلئے مدارس کی چاردیواری اور تعلیم و تزکیہ باطن کیلئے خانقاہوں اور
رباطوں کی تعمیر عمل میں آئی اور وہ مسجد نبوی جس مین یہ دونوں جلوے یکجا تھے
اس کی تجلیات ، مدرسوں اور خانقاہوں کے دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں۔ جسکا نتیجہ
یہ ہوا کہ مدارس سے علماءدین کی بجائے علمائے دنیا برآمد ہونے لگے اور باطن کے
مدعی علم شریعت کے اسرار و کمالات سے غافل ہو کر رہ گئے۔ اس دور زبوں میں بھی
عالم اسلام میں ایسی ہستیاں پیدا ہوتی رہیں جو آرائش ظاہر اور جمالِ باطن سے
آراستہ و پیراستہ تھیں ان برگزیدہ ہستیوں میں حضرت امام غزالی ؒ، شیخ عبد
القادر جیلانی ؒ، حضرت امام بخاری ؒ ، اور حضرت سفیان ثوری نمایاں ہیں۔ تبلیغی
جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ؒ بھی اسی سلسلہ ولی الٰہی کی ایک کڑی
ہیں جس مبارک دینی ماحول میں مولانا محمد الیاس ؒ کی عمر کا ابتدائی حصہ گزرا
تھا اس کی مخصوص دینی و روحانی فضا کی وجہ سے بمشکل اس بات کا احساس ہو سکتا
تھا کہ مسلمانوں میں سے ایمان و یقین کی دولت سرعت کے ساتھ نکلتی جارہی ہے۔ دین
کی طلب اور قدر سے دل تیزی کے ساتھ خالی ہوتے جارہے ہیں۔ اس ماحول میں چونکہ
صرف خواص اہل دین اور اہل طلب سے واسطہ پڑتا تھا اور احساس نہ ہونابے موقع نہ
تھا۔ وہاں رہ کر ہی تصور کیا جاسکتا تھا کہ مسلمانوں کی زندگی دعوت و تبلیغ اور
دین کی ابتدائی جدوجہد کی منزل سے آگے بڑھ چکی ہے اور اب صرف مدنی زندگی کے
تکمیلی مشاغل کی ضرورت ہے۔ اس لئے وہاں رہ کر مدارس دینیہ کے قیام و اہتمام ،
کتاب و سنت کی اشاعت ، درس حدیث، دینی تصانیف و تالیف، قضاﺅ افتائ، ردِّ بدعات،
اہل باطل سے مناظرہ واحقاقِ حق اور سلوک و تربیت باطنی کے علاوہ کسی اور طرف
ذہن کا منتقل ہونا بہت مشکل تھا وہاں کام کی نوعیت یہ تھی گویا زمین ہموار دیتا
رہے صرف اس پر پودے اور درخت بٹھانا باقی ہے۔ اس ماحول کا طبعی تقاضا تو یہ تھا
کہ آپ بھی انہیں میں سے کسی شعبے کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی خداد استعداد
صلاحیت سے اس میں کمال پیدا کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آپ کی خاص
رہنمائی فرمائی اور آپ کی بصیرت پر یہ حقیقت منکشف کر دی کہ جس سرمایا کے
اعتماد پر یہ سارا جمع خرچ ہے وہ سرمایا ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے
جس زمین پر دین کے یہ درخت نصب کرنا ہیں وہ زمین ریت کی طرح پاﺅں کے نیچے سے
کھسکتی جارہی ہے۔ امّہات عقائد میں ضعف پیدا ہو گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے خدا
کی خدائی اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کا یقین کمزور ہوتا جارہا ہے
اور اجر و ثواب کا شوق (ایمان و احتساب) دل سے اٹھتا جارہا ہے۔ یہ انکشاف اس
وضاحت اور قوت کے ساتھ ہو اکہ اس سے مولانا کی زندگی کا رخ بالکل ہی تبدیل ہو
گیا۔ طبائع رحجانات کے سیلاب کے رخ کو خداد بصیرت و فراست سے پہچان کر آپ نے
اچھی طرح محسوس کر لیا کہ نئے دینی اداروں کا قیام تو الگ رہا پرانے اداروں اور
دینی مرکزوں کی حالت بھی خطرے سے باہر نہیں۔ اس لئے کہ وہ رگیں اور شریانیں جس
سے ان میں خون زندگی آتا تھا مسلمانوں کے جسم میں برابر خشک ہوتی جارہی ہیں ان
کی طلب اور ضرورت کا احساس ہوا کہ اس وقت کا احساس ، ان کی قدر کم ہو رہی ہے
مولانا کو اس بات کا پوری شدت سے احساس ہوا کہ ا س وقت سب سے مقدم اور ضروری
کام قلب کی تبلیغ اور مسلمانوں میں اپنے مسلمان ہونے کااحساس پیدا کرنا ہے اور
یہ کہ دین سیکھے بغیر نہیں آتا اور دنیاوی ہنروں کے بجائے اسے سیکھنے کی ضرورت
زیادہ ہے یہ احساس اور طلب پیدا ہو گئی تو باقی مراحل خود طے ہو جائیں گے۔ اس
وقت مسلمانوں کا عمومی مرض بے حسی اور بے طلبی ہے لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ
لیا ہے کہ ایمان تو موجود ہی ہے اس لئے ایمان کے بعد جن چیزوں کا درجہ ہے ان
میں مشغول ہو گئے۔ حالانکہ سرے سے ہی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت باقی ہے اس
احساس و طلب اور اسلام کے اصول اپنانے کی تلقین کے طریقہ کار کے متعلق مولانا
کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کا کلمہ طیبہ ہی اللہ کی رسی کا وہ سرا ہے جوہر
مسلمان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی سرے کو پکڑ کو آپ پورے دین کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔
اس لئے مسلمان جب تک کلمہ کا اقرار کرتا ہے اسے دین کی طرف لے آنے کا موقع باقی
ہے اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اس کا فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔ اس لئے
کلمہ کے ذریعے ہی ان میں تقریب پیدا کی جائے کلمہ یاد نہ ہو تو یاد کرایا جائے
غلط ہوتو اس کی تصحیح کی جائے کلمہ کے معنی و مفہوم بتائے جائیں اور سمجھایا
جائے کہ خدا کی بندگی اور غلامی اور رسول کی تابعداری کا اقرار ان سے کیا
مطالبہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی پابندی پر لایا
جائے۔ نیز یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنے کیلئے
اللہ کی مرضی و منشاءاوراس کے احکام و فرائض معلوم ہونے کی ضرورت ہے دنیا کا
کوئی ہنر سیکھے اور کچھ وقت ضائع کئے بغیر نہیں آتا۔ دین بھی بے طلب نہیں آتا
اس کے لئے اپنے مشاغل سے وقت نکالنا ضروری ہے۔ ان نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے
مولانا الیاس ؒ نے بستی نظام الدین سے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اس زمانے میں یہ
بستی غیر آباد تھی۔ ایک چھوٹی سے کچی مسجد اور حجرے کے سوا یہاں کچھ نہ تھا۔
درگاہ حضرت نظام الدین کے جنوب میں مختصر سی آبادی تھی۔ مسجد میں چند میواتی
غریب طالبعلم ہر وقت موجود رہتے تھے یہ زمانہ نہایت تنگدستی اور فقروفاقہ کا
تھا۔ عرصہ تک یہ مجاہدہ جفاکشی اور ریاضیت جاری رہی۔ وہ مروجہ تمام ذرائع ابلاغ
کو جائز تو سمجھتے تھے مگر انبیاءوالے کام کیلئے اسی سادہ فہم سینہ بہ سینہ،
انسان بہ انسان ، زندگی بہ زندگی والے طریق دعوت کو اصل اور افضل سمجھتے تھے۔
لہٰذا مسلمانوں کو اطاعت حق ، حفاظت حق اور اشاعت حق کو ہی اپنا مقصد حیات
بنانا چاہیے اور اپنی جان اپنا مال اپنا وقت اور اپنا خون پسینہ اور آنسو بہا
کر گمراہ لوگوں کیلئے نفرت اور دشمنی کی بجائے خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ
یہ فریضہ انجام دینا چاہیے تاکہ دین کی قدر و قیمت دل میں آ جائے کیونکہ جو چیز
مقصد حیات بن جائے اس پر سب کچھ قربان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کو کسی پر قربان
نہیں کیا جاسکتا۔

--~--~---------~--~----~------------~-------~--~----~
Asalam o Alaikum, 

You Are Receiving This Message, Because You Are A Member Of FOCUS ON  ISLAM, A 
Google Group [..:: The Best Group For Nice Islamic Mails ::..]

\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<>\/

You can Post Your Comments and Suggestions to Me [Moderator of this Group] 
on this email address: [EMAIL PROTECTED]

To visit your group on the web, go to: 
http://groups.google.com/group/focusonislam/

To post messages/mails to this group, send email to 
[email protected]

To unsubscribe from this group, send email to [EMAIL PROTECTED]

Please forward our Mails to Your friends, and convence them to join our Group.
Wanna subscribe to this group, send email to [EMAIL PROTECTED] 

\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<>\/

***********************************************************
The Official Website of Group is LAUNCHED,
http://www.geocities.co
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---

Reply via email to