اسلام دشمنی۔مغرب کے اہداف کیا ہیں؟ آج کے حالات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح طور پر عیاں ہوجاتی ہے کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دور میں داخل ہوچکی ہے جس کی خبر سید کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی کہ ”مسلمانوں عنقریب تم پر ایسا دور آئے گا کہ دنیا کی تمام قومیں تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے ایک دوسرے کو مدعو کریں گی۔ جیسے (دعوتوں) میں کھانے کی دعوت دی جاتی ہے۔“ آج پوری دنیا میں مسلمانوں کا تصور ”دہشت گردوں“ کے گروہ کا ہے۔ 11 ستمبر کے واقعے سے پہلے بھی دنیا میں کئی دہشت گرد گروہ موجود تھے مگر کسی گروہ کو اس کے مذہب کے حوالے سے نہیں پکارا گیا۔ مثلاً انگلینڈ اور آئرلینڈ کے مابین طویل جنگ کے دوران کئی دہشت گردی کے واقعات ہوئے جس میں لاتعداد لوگ جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے مگر کسی جانب سے اسے ”عیسائی دہشت گردی“ نہیں کہا گیا۔ فرانس اور اسپین کے سرحدی علاقے پر واقع اسپین کے ایک صوبے پایس باسکو(Pais Basco) میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے اور یہاں پر ایک گروہ ایٹا (ETA) کے نام سے سرگرم عمل ہے اور اس گروہ نے اسپین میں کئی بم دھماکے کیے ہیں مگراس گروہ کی دہشت گردی کو کسی نے ”کیتھولک دہشت گردی“ کا نام نہیں دیا۔ سری لنکا کے علاقے ”تامل“ میں عرصہ دراز سے ”تامل ٹائیگرز“ کے نام سے ایک گروہ موجود ہے مگر اس گروہ کی کارروائیوں کو کبھی کسی نے ”بدھ ٹیرر ازم“ کا نام نہیں دیا۔ ہندوستان کے علاقے گجرات میں مسلمانوں کی بے دریغ ہلاکتوں کے بارے میں ثابت ہوگیا ہے کہ اس کے ذمے دار صوبے کے وزیراعلیٰ نریندرمودی اور انتہا پسند ہندو ہیں مگر کسی جانب سے آواز نہیں اٹھی کہ یہ ”ہندو ٹیرر ازم“ ہے مگر ستم ظریفی ملاحظہ کریں کہ دنیا میں ہونے والے دہشت گردی کے تقریباً ہر واقعے کو بغیر سوچے سمجھے مسلمانوں سے منسوب کردیا جاتا ہے اور اس میں مزید دکھ اور کرب کی بات یہ ہے کہ مغرب کی اسلام کے خلاف اس مہم میں مسلمان ملکوں کے تقریباً سبھی حکمراں مغرب کے ایجنٹوں کا رول ادا کررہے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو مذہب کے نام پر دہشت گردی کی تاریخ عیسائیت سے عبارت ہے۔ جب سینٹ مارٹن لوتھر نے کیتھولک نظریہ سے بغاوت کا علم بلند کیا اور پروٹسٹنٹ فرقے کی بنیاد رکھی تو کیتھولک مذہب کے پیروکاروں نے مارٹن لوتھر کی آواز پر لبیک کہنے والوں کو زندہ آگ میں ڈلوایا۔ ان کا بے رحمانہ قتل عام کیا ان کے گھروں کو نذر آتش کیا۔ ان کی خواتین کی عصمت دری ہوئی۔ دنیا میں اب تک دو عالمی جنگیں (World Wars)ظہور پذیر ہوچکی ہیں اور یہ جنگیں بھی عیسائی ملکوں کے مابین تھیں۔ ان جنگوں میں کوئی مسلمان ملک فریق نہیں تھا پہلی جنگ جو 1914ءسے 1918ءتک جاری رہی ہے اس جنگ میں 20 ملین انسان لقمہ اجل بنے۔ دوسری جنگ عظیم میں 60 ملین افراد اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ سوویت یونین کے زمانے میں روس نے مسلمان ریاستوں کے بنیادی حقوق سلب کیے رکھے مگر روس کی اس کھلم کھلا دہشت گردی پر کوئی عالمی ادارہ حرکت میں نہیں آیا۔ سربوں نے بوسنیاہرزیگوینا کے مسلمانوں کی کھلم کھلا نسل کشی کی مگر پوری دنیا اور عالمی حقوق کے چیمپئن مغربی ممالک تماشا دیکھتے رہے۔ بھارت کی فوج 60 سال سے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے مگر ریاستی دہشت گردی پر کسی عالمی ادارے نے کوئی مذمتی قرارداد منظور نہیں کی۔ اس کے برعکس 30 سال سے جنگ سے نبرد آزما افغانستان کے بھوکے اور ننگے افغان شہریوں کو ”دہشت گرد“ قرار دے کر ان پر حملہ کردیا گیا اور ٹنوں وزنی ڈیزی کٹر بموں سے ان کا بھرکس نکال دیا مگر ابھی امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک کی اسلام دشمنی کی آگ ماند نہیں پڑی تھی کہ عراق پر حملہ کردیا اور ہنستے بستے ملک کو تہس نہس کردیا۔ امریکہ اور اس کے حلیف مغربی ممالک نے انسانوں سے آباد شہروں کابل، قندھار، بغداد، فلوجہ، کربلا اور نجف اشرف کو قبرستان میں بدل دیا ہے اور ابھی یہ عمل جاری و ساری ہے۔ اس کے برعکس کسی مسلمان ملک نے کبھی بھی کسی دوسرے ملک پر جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا ہے مگر دنیا میں دہشت گردی کا مرکز وہ بنے ہوئے ہیں۔ فلسطین پر اسرائیل عرصہ درازسے اپنی جارحیت مسلط کیے ہوئے ہے اس دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کو کسی نے ”یہودی دہشت گردی“ کا نام نہیں دیا حالانکہ پوریدنیا میں اسرائیلی جارحیت مسلّم ہے اور اس ملک کی وجہ سے پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے۔ مگر اس کے باوجود امریکہ اور اس کے حلیف ممالک اسرائیل کے محافظ ہیں اور اس کی دہشت گردی میں برابر کے شریک ہیں۔ دوسری جانب انہوں نے سید کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک اور قرآن پاک کو بھی اپنی گھٹیا ذہنیت کے ذریعے سے بدنام کرنے کی مذموم کوششیں شروع کردی ہیں اور اس کے لیے ڈنمارک میں پہلے گستاخانہ خاکے بنائے گئے اور بعد میں ہالینڈ کے رکن اسمبلی نے قرآن حکیم کے خلاف فلم بناڈالی۔ ابھی ان گستاخانہ حرکتوں کے خلاف احتجاج ختم نہیں ہوا تھا کہ فرانس میں مسلمانوں کے قبرستان میں جنوبی عیسائیوں نے گھس کر قبروں پر سور کی کھوپڑیاں رکھ دیں اور قبروں پر نصب کتبوں پر نامناسب الفاظ لکھ دیے۔ مغرب کی آخر اسلام دشمنی کی وجہ کیا ہے؟ اور وہ اس اسلام دشمنی کے ذریعے کیا اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں سب پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام دنیا کا واحد دین ہے جو انسانیت کو مکمل ضابطہ حیات دیتا ہے اور معتدل اور متوازن ترین نظام عدل اجتماعی عطا کرتا ہے جسے مغرب کے دانشور اپنے نظاموں کے خلاف سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اسلامی تہذیب ہماری تہذیب کو نگل لے گی۔ لہٰذا انہوں نے اسلام کے خاتمے کے لیے چار اہداف مقرر کیے ہیں جن میں سب سے پہلا ہدف یہ ہے کہ قرآن حکیم جو دنیا کی واحد آسمانی کتاب ہے جو من و عن محفوظ ہے اسے متنازع بنادیا جائے تاکہ یہ کتاب مقام حجت سے ہٹ کر بحث و مباحثے کا موضوع بن جائے۔ ایسی کوشش ماضی میں بھی بہت ہوئی ہیں یعنی کبھی آیات کو آگے پیچھے شائع کرکے چھاپا گیا کبھی اس کے عنوان سے ایسی تحریکیں شروع کرادیں جو اسلام سے متصادم تھیں ہمارے ہاں جس کی سب سے بڑی مثالیں قادیانی مذہب اور پرویزی مکتبہ فکر کی ہے۔ دوسرا ہدف قرآن حکیم کے فکر ”جہاد فی سبیل اللہ“ کو وحشیانہ عمل قرار دیا جائے تاکہ مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد اور ذوق شہادت کو ختم کیا جاسکے۔ اس کے لیے بھی انہوں نے مسلمانوں کے اندر اپنے ایجنٹ پھیلائے جنہوں نے جہادوقتال کے تصور کو غلط قرار دیا۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ دیں کے لیے حرام ہے اب دوستو، قتال جس پر شاعر مشرق علامہ اقبال نے پھبتی چست کی تھی کہ فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے دنیا میں اب نہیں رہی تلوار کارگر! مغرب کا تیسرا ہدف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے جسے وہ اپنی گھٹیا ذہنیت کے ذریعے متنازع بنانا چاہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے قلب و ذہن سے آپ کا احترام ختم ہوجائے کیونکہ مغرب کا خیال ہے کہ جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے امتیوں کے مابین احترام اور محبت کا تعلق ختم نہیں ہوگا مسلمانوں کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ مغرب کی اسی ذہنیت کو علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے کہ یہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بدن سے نکال دو یہی وجہ ہے کہ کبھی گستاخانہ خاکے بنائے گئے اور کبھی پاکستان میں نادان عیسائیوں کے ذریعے گستاخیاں کروائیں۔ اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر ملعون سلمان رشدی اور ملعونہ تسلیمہ نسرین کو پناہ دی گئی اور اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ملعون سلمان رشدی کو ادب کے میدان میں"SIR"کے خطاب سے نوازا گیا اور یہ حرکت ”روشن خیالی“ اور انسانی حقوق کے چیمپئن“ ملک برطانیہ نے سرانجام دی۔ مغرب کی اسلام دشمنی کے ضمن میں چوتھا ہدف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوئہ مبارکہ ہے اور یہ اسوئہ ہمیں احادیث کی کتب سے ملتا ہے لہٰذا کوشش کی جارہی ہے کہ احادیث کے بارے میں گمراہ کن خیالات عام کردیے جائیں اور ان کو مشکوک بنادیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ شعائر اسلامی داڑھی، عمامہ یا ٹوپی، ساتر لباس، مسواک، زلفوں اور دیگر سنتوں کو دقیانوسیت قرار دیا جاتا ہے۔ ان اعمال کو اختیار کرنے والوں کا استہزا اور تضحیک کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان ملکوں کے میڈیا پر جن لوگوں کو دانشوروں اور علمائ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے وہ داڑھی منڈھے اور ننگے سروں والے ہوتے ہیں۔ مغرب کے ان ناپاک اہداف کا توڑ یہ ہے کہ ہم اپنے دینی تصورات کی کجیوں اور کمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں صحیح کریں۔اس ضمن میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کے حقیقی تصور کو لوگوں میں عام کیا جائے۔ ہمارے ہاں جہادکے ضمن میں سب سے پہلا مغالطہ ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے کہ جہاد کے معنی صرف غیرمسلموں کے خلاف ”جنگ“ ہیں اور یہ تصور بھی مغرب کا پھیلایا ہوا ہے اور ہماری عظیم اکثریت اسی تصور سے چمٹی ہوئی ہے۔ قرآن میں جنگ کے لیے جو اصطلاح آئی ہے وہ ”قتال فی سبیل اللہ“ ہے جبکہ جہاد فی سبیل اللہ سے مراد اپنی ذات، معاشرے اور پورے سیاسی و اقتصادی نظام پر اس حق کو غالب کرنے کی جدوجہد جس اہم ترین اور سب سے بنیادی جہاد اپنے نفس کے خلاف جدوجہد ہے۔ ( ) الفاظ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل جہاد یہ ہے تو اپنے نفس کو اللہ کے احکام کا مطیع بنانے کے لیے اس کے خلاف جدوجہد کرے۔“ جو ہر مسلمان ہر لمحے کرتا ہے جبکہ جنگ تو ہر وقت نہیں ہوتی۔ اس مغالطے کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ چونکہ ہر وقت نہیں ہوتی لہٰذا جہاد فرض کفایہ بن گیا اور فرض عین کی فہرست سے خارج ہوگیا۔ اس غلط تصور جہاد کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ مسلمان جب بھی جنگ کرے گا تو گویا وہ جہاد فی سبیل اللہ کررہا ہے۔ حالانکہ مسلمان کوئی ظالم اور فاسق و فاجر حکمران بھی ہوسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمان بادشاہوں کے اقتدار کے لیے جنگوں کو بھی جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا جاتا رہا جبکہ احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے قتال فی سبیل اللہ وہ جنگ ہے جو اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے کی جائے۔ جہاد اور قتال کے فرق کو اس طرح سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جہاد کے لیے انگلش میںStruggle کا لفظ ہے جس کے ہم پلہ اردو میں کشاکش کا لفظ ہے جبکہ Struggleکے ساتھ Againstکا لفظ ہے جس کا مطلب کسی مقصد کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے کیلیے کوشش ہے۔ الغرض! اس وقت لہٰذا پورا عالم مغرب… یعنی عیسائیت اور یہودیت اسلام کو بدنام کرنے کے لیے پورا زور صرف کررہے ہیں۔ اس کا توڑ یہ ہے کہ ہم قرآن کے اصل پیغام کو سمجھیں جسے پوشیدہ رکھنے کیلیے پوری دنیا زور لگارہی ہے اور جس کے ضمن میں دنیاکے خوف کی کیفیت وہی ہے جسے اقبال نے یوں بیان کیا تھا کہ عصر حاضر کے تقاضاو ¿ں سے ہے لیکن یہ خوف ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں الخدر! آئین پیغمبر سے سو بار الخدر ! حافظ ناموس زن، مرد آزما، مرد آفریں موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لیے نے کوئی فغفور و خاقاں، نے فقیر رہ نشیں کرتا ہے دولت کو ہر آلودگی سے پاک و صاف منعموں کو مال و دولت کا بناتا ہے امیں! اس سے بڑھ کر اور کیا فکر و نظر کا انقلاب پادشاہوں کی نہیں اللہ کی ہے یہ زمیں ۔
--~--~---------~--~----~------------~-------~--~----~ Asalam o Alaikum, You Are Receiving This Message, Because You Are A Member Of FOCUS ON ISLAM, A Google Group [..:: The Best Group For Nice Islamic Mails ::..] \/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<>\/ You can Post Your Comments and Suggestions to Me [Moderator of this Group] on this email address: [email protected] To visit your group on the web, go to: http://groups.google.com/group/focusonislam/ To post messages/mails to this group, send email to [email protected] To unsubscribe from this group, send email to [email protected] Please forward our Mails to Your friends, and convence them to join our Group. Wanna subscribe to this group, send email to [email protected] \/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<>\/ *********************************************************** The Official Website of Group is LAUNCHED, http://www.geocities.co -~----------~----~----~----~------~----~------~--~---
