* **
------------------------------
*

*وہ رسم جسے نبیء آخرالزماںنے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال قبل ختم کر دیا تھا اسے
آپؐ کے چاھنے والوں نے اپنی روایات کے ذریعے آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے،وہ
منظرجسکے بارے میں سن کر بھی رحمتِ عالمؐ اشکبار ہو جایا کرتے تھے اسے دیکھ کر
بھی آپؐ کے نام پر مرنے مارنے کو تیار آپؐ کے امتی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ایک
لمحے کے لیے آنکھیں بند کرکے اس منظر کو ذہن میں لائیے جب ان عورتوں کو زندہ
درگور کیا جا رہا ہو گا ،اور سوچیے کہ آپ انکی جگہ ہوتے تو آپ کا حال کیا ہوتا؟
*

*مظلوم،معصوم،بے بس اور نہتی عورتوں کی زندہ درگوری نے میری روح تک کو گھائل کر
کے رکھ دیا تھا لیکن بلوچستان میں رونما ہونے والے اس واقع پر ابھی تک کچھ لکھا
اسلیے نہیں کہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر تنقید کرتے ہوئے بلوچ رہنما اور
قائم مقام چیئرمین سینٹ(وقت)جان جمالی صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ لوگ دراصل بلوچ
روایات سے واقفیت نہیں رکھتے۔ میں نے سوچا کہ پہلے بلوچ روایات سے واقفیت حاصل
کر لینی چاہیے اور اس مقصد کے لیے جن مستند ترین کتب کے مطالعے کا بتایا گیا ان
میں
**سرِفہرست ہے**Tigers of Baluchistan
سلویا میتھیسن ??بی بی سی?? کی نمائندۂ خصوصی ہونے کے علاوہ۔۔??وکٹر سیسون فیچر
ایجنسی??کی مینیجنگ ایڈیٹر تھیں، وہ ??یونیورسٹی آف لندن??میں محقّق کی حیثیت
سے بھی کام کرتی رہیں۔انہوں نے ?Rajistan,Land of Kings?,?leathercraft in the
Land of Persia?اور?An Archaelogical Guide?جیسی اہم کتابیں بھی لکھیں۔سلویا
پانچ برس تک بلوچستان کے صحراؤں میں بھگٹی قبیلے کے ساتھ رہیں جسکے افرادکو
روایتی طور پر ۔۔??بلوچستان کے شیر?? کہا جاتا ہے اور جو مری قبیلے کے ساتھ
بلوچستان کے ممتاز ترین قبائل میں شمار کیا جاتا ہے۔بھگٹی سردار نے اپنے قبیلے
کے ایک جنگجو باڈی گارڈ کے ساتھ سلویا کوان جگہوں پر جانے کی اجازت بھی دے دی
جہاں عام طور پر نہیں جانے دیا جاتا۔سلویابھگٹی عورتوں سے نہ صرف ملیں بلکہ
تاریخ میں پہلی مرتبہ ان کی تصاویر بھی بنائیںجو ۔۔?Tigers of Baluchistan?کے
مختلف صفحات پر دیکھی جا سکتی ہیں۔اس کتاب میں سلویا نے آنکھوں دیکھا حال لکھا
ہے جو پہلی مرتبہ برطانیہ میں 1967اور پاکستان میں1975میں شائع ہوئی۔
کتاب کے ایک باب ??محبت کرنے والے۔زندہ اور مردہ??(Lovers-Dead and Alive)میں
سلویابلوچوں کے بارے میں لکھتی ہیں کہ بچوں کی شادیاں کیونکہ انکی پیدائش سے
پہلے ہی طے کر دی جاتی ہیں اسلیے محبت کرنے والوں کا انجام عام طور پر انکی موت
پر ہی ہوتا ہے،اسکے باوجود محبت کے نغمے شادی شدہ عورتوںکو مخاطب کر کے لکھے
جاتے ہیں۔قبائلی فضل و ہنر کی رو سے تمام جرائم میں سنگین ترین زناکاری ہے جسکی
سزا موت ہوتی ہے اور زناکاری میں ملوث ہونے کے لیے ذرا سا شک یا ایسی افواہ بھی
کافی ہوتی ہے جومایوس حاسد رقیب یا ٹھکرائی ہوئی پکّی عمر کی عورت نے پھیلائی
ہو۔بھگٹی سردار کے چھوٹے بھائی احمدنواز خان نے سلویا کو بتایا کہ اگر کسی عورت
کی نگاہ بھی کسی مرد پر پڑ جائے تو یہ اسے زناکار ٹھہرانے کے لیے کافی ہوتا ہے
،زناکاری کا الزام کتنا ہی بے بنیاد کیوں نہ ہو لیکن اسکے ذریعے کوئی بھی شوہر
اپنی ناپسندیدہ بیوی سے بڑی آسانی کے ساتھ نجات حاصل کر سکتا ہے۔زناکارمرد کو
تلوار سے قتل کر دیا جاتا ہے یا گولی مار دی جاتی ہے جبکہ عورت کودرخت سے لٹک
کے پھانسی لگنا ہوتا ہے۔
احمد نواز کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے سلویا نے پوچھا کہ تمھارا مطلب ہے کہ
اسے خود کشی کرنی ہوتی ہے؟وہ بولاجی ہاں۔اسلیے کہ بیوی کو اپنے ہاتھوں سے قتل
کرنا مرد کی شان کے خلاف ہوتا ہے اور اسے زندہ اس لیے نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس
نے شوہر کا نام بدنام کیا ہوتا ہے۔بعض عورتیں بھاگ کربڑے سردار کی پناہ میں آ
جاتی ہیںجو انہیں اپنے گھر میں حفاظت سے رکھتا ہے اور جب انکی تعداد بڑھ جاتی
ہے توسال میں ایک یا دو مرتبہ انکی نیلامی کر دی جاتی ہے،دور دراز سے آئے ہوئے
لوگ انہیں خرید کر لے جاتے ہیں لیکن اس سے پہلے انہیںسردار کے آگے اس بات کی
وضاحت کرنی ہوتی ہے کہ وہ ان عورتوں کو شادی کے لیے کیوں خرید نا چاہتے ہیں؟کچھ
رنڈوے ہوتے ہیںجو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ایسا کرنا چاہتے ہیں،کچھ کو مال
مویشی سنبھالنے اور پانی منگوانے کے لیے انکی ضرورت ہوتی ہے اور کچھ ان سے بیٹے
پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک بات طے ہوتی ہے کہ کوئی مرد بھی اس علاقے کے آس
پاس کا رہنے والا نہیں ہوتاجہاں کی اسکی خریدی ہوئی عورت ہوتی ہے تاکہ شادی کے
بعد اسکی بیوی پرانے شوہر کے لیے ندامت کا باعث نہ بن سکے۔(صفحات 70,71,72)
کیایہی ہیں وہ روایات جن کا حوالہ جمالی صاحب نے غالباً یہ سوچ کر دیا تھا کہ
ان کے بارے میں جان لینے کے بعد کوئی بلوچستان کی کسی عورت کی زندہ درگوری کے
خلاف کہیں آواز نہیں اٹھائے گا؟ ان روایات سے متعارف ہونے کے بعد یہ خیال آیا
کہ اس ضمن میں کیوں نہ جمالی صاحب اور ان جیسے دیگر لوگوں کی خدمت میں کچھ
حوالہ جات قرآن کریم سے پیش کیے جائیں جس پر ہم سب بڑے فخر سے ایمان لانے کا
دعوی کرتے ہیں ؟اگر انہوں نے ذرا سی توجہ اور غیرجانبداری سے کام لیا تو مجھے
یقین ہے کہ وہ آئندہ ان روایات کا سہارا کبھی نہیں لیں گے ۔ جہاں تک زناکاری کا
تعلق ہے تو اس بارے میںقرآن شک و افواہ کوکوئی اہمیت نہیں دیتا بلکہ واضح
ثبوتوںکا مطالبہ کرتا ہے اور اسکی سزا مرد اور عورت دونوں کے بارے میں گولی یا
پھانسی مقرر نہیں کرتا بلکہ کہتاہے کہ ہر دو کو ایک ایک سو کوڑے
مارو(2النور)لیکن اس معاملے کو کسی اوروقت تفصیل سے چھیڑیں گے کیونکہ فی الحال
بات ہو رہی ہے درگور کی جانے والی عورتوں کی جنکا قصور یہ تھا کہ وہ زبردستی کے
نکاح سے انکا ر کر رہی تھیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی شادی
کرنا چاہتی تھیں جو بلوچ روایات کے مطابق ایک بہت بڑا جرم ہے۔
اگر لفظ ??نکاح?? کالغوی مطلب ہی جان لیا جائے تو بھی اس بات میں شک و شبہے کی
گنجائش نہیں رہتی کہ اس معاملے میں زبردستی دراصل اسکی روح ہی کے خلاف ہے۔نکاح
عربی کا لفظ ہے جسکے معانی ایک دوسرے میں یوں گھلنے ملنے کے ہیں جسطرح آنکھوں
میں نیند گھلتی ہے(نکع النعاس عینہ)یا جسطرح زمین میں بارش کی بوندیں جذب ھوتی
ہیں(نکع المطر الارض)۔
قرآن کریم نے نکاح کو ایک مضبوط معاہدہ کہا ہے(21النسائ) اور معاہدے کے لیے
فریقین کا بالغ ہونا ضروری ہوتا ہے،لہذا بلوغت یا جوانی کو ہی نکاح کی عمر قرار
دیاگیا(6النسائ34بنی اسرائیل(۔کیا بالغ فریقین کے درمیان کوئی مضبوط معاہدہ
باہمی رضا و رغبت کے بغیر(یعنی زبردستی) بھی ہو سکتا ہے؟
نکاح اسلیے نہیں کیا جاتا کہ بیوی سے جانوروں کی دیکھ بھال کرائی جائے یاپانی
منگوایا جائے،نہ ہی اس سے مراد محض جنسی ملاپ ہے،اس کا مقصد تو اللہ کی طرف سے
مقرر کردہ حقوق و فرائض کی پاسداری ہے (24النسائ) اور نکاح سے مرد اور عورت
دونوں پر یکساں حقوق و فرائض عائد ہو جاتے ہیں (228 البقرۃ)
قرآن کریم کے بقول جوڑے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ ان سے تسکین حاصل ہواور محبت
و رحمت کی فضا جنم لے(21الروم)،اسی لیے تو مرد وں کو اپنی پسند کی عورتوں
(3النسائ)اور عورتوں کو اپنی پسند کے مردوں سے(19النسائ) نکاح کرنے کی ہدایت
واجازت دی گئی ۔
موضو ع کی مناسبت سے آپ کی خدمت میںبلوچ روایات کے ساتھ ساتھ قرآنی ہدایات بھی
رکھ دی گئی ہیں،ان پر ہو سکے توکم از کم ایک مرتبہ ضرور غور وفکر کیجئے اور خود
ہی فرمائے کہ کیا یہ دونوں ایک دوسرے کی ضدنہیں؟ہمیں اپنی روایات یا قرآن میں
سے کسی ایک کا انتخاب واضح طور پر کر لینا چاہیے کیونکہ انکے ایک ساتھ چلنے میں
کسی ایک کا بھی فائدہ نہیںبلکہ دونوں کا نقصان ہے۔*

*Courtsey: Jinnah <http://www.dailyjinnah.com/?p=9180>*

--~--~---------~--~----~------------~-------~--~----~
Asalam o Alaikum, 

You Are Receiving This Message, Because You Are A Member Of FOCUS ON  ISLAM, A 
Google Group [..:: The Best Group For Nice Islamic Mails ::..]

\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<>\/

You can Post Your Comments and Suggestions to Me [Moderator of this Group] 
on this email address: [email protected]

To visit your group on the web, go to: 
http://groups.google.com/group/focusonislam/

To post messages/mails to this group, send email to 
[email protected]

To unsubscribe from this group, send email to 
[email protected]

Please forward our Mails to Your friends, and convence them to join our Group.
Wanna subscribe to this group, send email to 
[email protected] 

\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<<<<>>>>\/<>\/

***********************************************************
The Official Website of Group is LAUNCHED,
http://www.geocities.co
-~----------~----~----~----~------~----~------~--~---

Reply via email to